| نصائح وحکایات سعدیؒ |
جو نصیحت نہیں سنتا اسے ملا مت سننا پڑتی ہے ۔
بادشاہو ں کو وہی شخص نصیحت کر سکتا ہے جسے نہ سر کا خو ف ہو نہ زر کی تمنا ۔
کمزوروں پر رحم نہ کھانے والا طاقتوروں سے ما ر کھا تا ہے ۔
مو تی اگر کیچڑ میں بھی گر جا ئے تو بھی قیمتی ہے اور گرد اگر آسمان پر بھی چڑھ جا ئے تو بھی بے قیمت ہے ۔
دشمن سے ہمیشہ بچو اور دوست سے اس وقت بچو جب وہ تمہا ری تعریف کر نے لگے۔
بے نمازی کو قر ض مت دو ، خواہ!فا قہ سے اس کا منہ کھلا ہو ا ہو ، اس لئے جو خدا کا قرض ادا نہیں کرتا اسےتیرے قرض کی فکر بھی نہ ہو گی ۔
اس کی ہمت پر قربان جو نیک کا م اخلا ص کے ساتھ کر تا ہے ۔
جس نے علم حا صل کیا اور عمل نہ کیا وہ اس آدمی کی مانند ہے جس نے ہل چلا یا لیکن بیج نہ بکھیرا ۔
بدسرشتوں کے ساتھ حسن سلو ک ایسا ہے جیسے نیکوں کے ساتھ بدی کر نا ۔
مشک وہ ہے جو اپنی خوشبو سے اپنا پتہ خود دے نہ کہ عطار بتا ئے کہ یہ مشک ہے ۔
حریص آدمی ساری دنیا لے کر بھی بھو کا رہتا ہے اور قانع آدمی ایک روٹی سے بھی پیٹ بھر لیتا ہے ۔
اگرکسی چوپا ئے پر چند کتا بیں لدی ہو ں تو اس سے نہ تو وہ محقق ہو جا تا ہے اور نہ ہی دانش مند ۔
بخیل آدمی کی دولت اس وقت زمین سے نکلتی ہے جب وہ خو دزیر زمین چلا جا تا ہے ۔
مطالعہ غم اور اداسی کا بہتر ین علا ج ہے ۔
اگر تم چا ہتے ہو کہ تمہا ر ا نا م زندہ رہے تو اپنی اولا د کو اچھے اخلا ق سکھا ؤ۔
جو شخص دشمن سے صلح کر تا ہے اس سے دوستوں کو آزار پہنچنے کا خطرہ رہتا ہے ۔
راستے کی پہچان نہ رکھنے والا مسافر بے پر کا پرندہ ہے ۔
مال و دولت کی زکوٰۃ نکا لتے رہا کر و اس لئے کہ باغبان جب انگور کی بے کا رشا خیں تراش دیتا ہے تو اس پر زیا دہ انگو ر آتا ہے ۔
جب آمدنی نہ ہو تو تھوڑا تھوڑ ا خرچ کر و کیوں کہ ملا ح گا یا کر تے ہیں اگر با رش نہ ہو تو دجلہ جیسے دریا بھی ایک سال میں خشک ہو جا تے ہیں ۔
دنیا کما نا ہنر نہیں اگر ہو سکے تو ایک مرتبہ کسی کا دل جیت لو ۔
جو شخص بچپن میں ادب کر نا نہیں سیکھتا ، بڑی عمر میں اس سے بھلا ئی کی کو ئی امید نہیں۔
نصیحت خواہ دیوار پر ہی کیوں نہ لکھی ہو اسے اپنے کا نوں میں ڈال لو ۔
جو شخص طاقت کے دنوں میں نیکی نہیں کر تا ، ضعف کے دنوں میں تکلیف اٹھا تا ہے ۔
دوست وہ ہے جودوست کا ہا تھ پریشان حالی و تنگ دستی میں پکڑتا ہے ۔
نہ تو اس قدر سختی کر و کہ لو گ تجھ سے تنگ آ جا ئیں اور نہ اس قدر نر می کہ تجھ پر حملہ کر دیں۔
بھوک اور مسکینی میں دن گزارنا کسی کمینے کے سامنے ہا تھ پھیلا نے سے بہتر ہے ۔
کمزور دشمن اطاعت قبول کر ے اور دوست بن جا ئے اس کا مقصد اس کے علا وہ اور کچھ نہیں ہو تا کہ وہ مضبوط دشمن بننا چا ہتا ہے ۔
رزق کی کمی اور زیا دتی دونوں ہی برائی کی طر ف لے جا تی ہیں ۔
دنیا داری نام ہے اللہ سے غافل ہو جا نے کا ، ضروریات زندگی اوربال بچوں کی پر ورش کر نا دنیا داری نہیں ۔
بروں کے ساتھ نیکی کر نا ایسا ہی جیسے نیکوں کے ساتھ برائی کر نا ۔
مصیبت کو پو شیدہ رکھنا جو ان مردی ہے ۔
عقل مند اس وقت تک نہیں بولتا جب تک خا مو شی نہیں ہو جا تی ۔
جو کو ئی اپنی کمائی سے روٹی کھا تا ہے اسے حا تم طائی کا احسان نہیں لینا پڑتا۔
مجھے اس دنیا سے کیا لینا جس کے حلا ل میں حساب اور حر ام میں عذاب ہے ۔
اچھی عادات کی ما لکہ ، نیک اور پا کدامن عورت اگر فقیر کے گھر میں بھی ہو تو اسے بادشا ہ بنا دیتی ہے ۔
کسی کو دلی خو شی دینا ہزار سجدوں سے بہتر ہے ۔
شیر سے پنجہ آزمائی کرنا اور تلوار پر مکہ مارنا عقلمندوں کا کا م نہیں ۔
دولت کو صدقہ جا ریہ میں لگا ؤ آخر ت میں کا م آئے گی ۔
عقلمند آدمی کوئی بھی بڑاکام کبھی کسی نا تجربہ کا ر کو نہیں سو نپتا۔
دنیا بے وفا اور انتہا ئی ناقا بل اعتبا ر ہے اس سے فائدہ وہی شخص اٹھا تا ہے جو اسے مخلو ق خدا کی اصلا ح اور فلا ح میں لگا دیتا ہے ۔
بے کا ر بولنے سے منہ بند رکھنا بہت بہتر ہے ۔
جو شخص کو شش اور عمل میں کو تا ہی کر تا ہے ، پیچھے رہنا اس کا مقدر ہے ۔
علم حاصل کرنے کے لئے خو د کو شمع کی ما نند پگھلاؤ۔
سخاوت کا ہا تھ طا قتور بازو سے بہتر ہے ۔
سانپ کے بچے بھی سانپ ہی ہو تے ہیں اس لئے ان کی حفا ظت کر نا بے وقوفی ہے ۔
جس کو ایک مدت میں دوست بنائیں مناسب نہیں کہ اس کو ایک لمحے میں کھو دیں۔
فتنہ انگیز سچا ئی سے مصلحت آمیز جھو ٹ بہتر ہے ۔
جو سخی کھا ئے اور دے ، اس عبادت گزار سے بہتر ہے جو لے اور جمع کرے۔
آہستہ آہستہ مگر مسلسل چلنا کا میا بی کی ضما نت ہے ۔
جو اپنو ں سے وفا نہیں کر تا وہ دانا ؤں کے نزدیک کسی کا دوست نہیں ہو تا۔
بوڑھا ہو جا نے پر بچپن کو چھوڑدواور ہنسی مذاق و دل لگی جو انوں کے لئے رہنے دو۔
چڑیا ں اگر متحد ہو جا ئیں تو وہ شیر کی کھا ل کھینچ سکتی ہیں۔
یہ ضروری نہیں جو خو بصو ر ت ہو وہ خو ب سیرت بھی ہو ، کا م کی چیز اندر ہو تی ہے با ہر نہیں ۔
میں خدا سے ڈرتا ہو ں اور خدا کے بعد اس شخص سے جو خد ا سے نہیں ڈرتا ۔
عورتوں سے مشورہ کر نا تبا ہی کا با عث ہے ۔
تعلیم انسان کو بو لنا تو سکھا دیتی ہے مگر یہ نہیں سکھا تی کہ کب ، کہا ں اور کتنا بو لنا ہے ۔
حق شنا س کتا باشکرگزار انسان سے کہیں زیا دہ اچھا ہو تا ہے ۔
میں پوری زندگی ان دو بندوں کو تلا ش نہ کر سکا ، ایک وہ جس نے اللہ کے نا م پر دیا اور وہ غریب ہو گیا ہو اور دوسر ا وہ جس نے ظلم کیا اور اللہ کی پکڑ سے بچ گیا ۔
خدا کے دوستوں کی اندھیری رات بھی روزروشن کی طر ح چمکتی ہے ۔
حسین عورت سے پا کدامن عورت بہتر ہے کیونکہ حسین عورت جواہر ات کا صرف ایک ٹکڑ ا ہو تی ہے جبکہ پا کدامن عورت پورا ایک خزانہ ۔
ایسے دوست سے ہا تھ دھو لینا بہتر ہے جو تیر ے دشمنوں کے ساتھ بیٹھتا ہے ۔
لا لچی کے لئے اپنا دروازہ نہیں کھولنا چا ہیے ، اگر کھل گیا تو پھر سختی سے بند نہ ہو گا۔
کمزور پر زور کرنا شر افت نہیں ہے ، کیونکہ جو پرندہ چیونٹی سے دانہ چھینے وہ کمینہ ہو تا ہے ۔
جو خدا تجھے ما لدا ر نہیں بنا تا وہ تیر ی بہتری تجھ سے بہتر جا نتا ہے ۔
اگر تو آزا د ہے تو بس زمین پر سو لے ، قالین کے لا لچ میں کسی کے سامنے زمین بوسی نہ کر ۔
اگر کوئی مر دے کی قبر کھودے تو وہ ما لدار اور فقیر میں تمیز نہیں کر سکتا ۔
غوطہ خور اگر مگر مچھ کے منہ سے خوف کھا نے لگے تو کبھی قیمتی مو تی حا صل نہیں کر سکے گا ۔
شیر بھو کا مر جا نا پسند کر تا ہے مگر کتے کا جھوٹا کھا نا کبھی پسند نہیں کر تا ۔
اگر انسان رنج و مسرت کی فکر سے بلند ہو جا ئے تو آسمان کی بلندی بھی اس کے قدموں کے نیچے آجا ئے گی ۔
اگر روزی عقل سے حا صل کی جا تی تو دنیا کے تما م بے وقوف بھو کے مر جا تے ۔
صبر زندگی کے مقصد کے دروازے کھولتا ہے ، کیوں کہ سوائے صبر کے اس دروازے کی کو ئی اور چا بی نہیں ہے ۔
جو نصیحت نہیں سنتا اس کا ارادہ ملا مت سننے کا ہے ۔
اگر زندگی اتنی اچھی ہو تی تو کوئی بھی دنیا میں روتے ہو ئے نہ آتا ۔
آدمی کے جھوٹا ہو نے کے لئے اتنا ہی کا فی ہے کہ وہ ہر سنی سنا ئی بات پر یقین کر لے ۔
اختلا فات پر صبر کر نا اور دوسروں کو برداشت کر نا ہی اخلا ق ہے ۔
جو شخص بچپن میں تمیز نہیں سیکھتا وہ بڑا ہو کر نہیں سیکھ سکتا ۔
اپنے سے اچھے کو تلا ش کر ، اپنے جیسے کے ساتھ عمر ضا ئع کر ے گا۔
میرے پا س وقت نہیں ہے ان لو گوں سے نفر ت کر نے کا جو مجھ سے نفرت کر تے ہیں کیونکہ میں مصر وف رہتا ہوں ان لو گوں میں جو مجھ سے محبت کر تے ہیں ۔
تعجب ہے اللہ اپنی اتنی ساری مخلو ق میں سے مجھے نہیں بھو لتا اور میر ا تو ایک ہی اللہ ہے اور میں اسے بھو ل جا تا ہوں ۔
انسا ن خا ک سے بنا ہے لہٰذا اگر اس میں خا کساری نہیں تو اس کا ہو نا نہ ہو نا برا بر ہے ۔
اپنے حصے کا کا م کئے بغیر دعا پر بھروسہ کر نا حما قت ہے اور اپنی محنت پر بھر وسہ کر کے دعا سے گریز کر نا تکبر ہے ۔
عقلمندوں اور بیوقوفوں میں کچھ عیب ضرور ہو تے ہیں مگر عقل مند اپنے عیب خو د دیکھتا ہے اور بیوقوفوں کے عیب دنیا دیکھتی ہے ۔
اپنے اخلا ق کو پھول جیسا بنا لو اور کچھ نہیں تو پا س بیٹھنے والا خو شبو تو حا صل کر ے ۔
مایوسی ایک دھو پ ہے جو سخت سے سخت وجو د کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے ۔
اگر زندگی اتنی ہی اچھی ہو تی تو کوئی بھی دنیا میں روتے ہو ئے نہ آتا ۔
کسی سے حسد نہ کر و بلکہ خو د بھی محنت کر کے حا صل کرنے کی کو شش کر و ۔
نا دان ڈھول کی ما نند ہو تا ہے ، بلند آواز ہو تا ہے مگر اند ر سے خا لی ہو تا ہے ۔
دوست وہ ہے جو دوست کا ہا تھ پر یشانی اور تنگ دستی میں پکڑتا ہے ۔
جو دکھ دے اسے چھو ڑو مگر جسے چھو ڑدو اسے دکھ نہ دو۔
دن کی روشنی میں رزق تلا ش کر و اور رات میں رزق دینے والے کو تلا ش کر و۔
ظالم اور نا شکرے کی دولت و نعمت ضا ئع ہو جا تی ہے اور شکرگزار دونوں جہا ں کی نعمتیں سمیٹ لیتا ہے ، رب کی رضا ، لو گوں کی دعائیں اور نعمتوں میں اضا فہ اس کا مقدر کر دیا جا تا ہے ۔
عدل و انصا ف سے ملک کو استحکا م اور ترقی ملتی ہے ، جب کہ ظلم و
ستم سے ملک کی
تباہی ہو جا تی ہے ۔
نصیحت کو غور سے سنو ، کیوں کہ اس میں نصیحت کر نے والے کا کم اور جس کو کر
رہا ہے اس کا زیا دہ فائدہ ہے ۔
انسان وہی ہے جس سے دوسروں کو فا ئدہ پہنچے ، جو دوسروں کی ہمدردی اور خیر خواہی نہ کر ے وہ انسانیت کے لئے عار ہے اور اس سے پتھر اور درندے بہتر ہیں ۔
اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر نا اور مخلو ق خد ا پر رحم و کر م کرنا ہی انجا م کار اخروی کا میا بی کا ضامن ہے۔
زندگی ایک مسلسل سفر ہے جس کی آخری منزل مو ت ہے ۔
نیک و بد کی تمیز کے بغیر خرچ کر و اگر نفع نہ ہوا تو اس کے شر سے ضرور بچ جا ؤ گے ۔
اگر لو گ تیر ی قدر نہیں جا نتے تو کوئی غم نہ کر ، کیوں کہ لو گ تو شب قدر کی بھی قدر نہیں جا نتے۔
خودبینی اور خود پسندی علم سے محرومی اور بدنصیبی کی علا مت ہے اور عاجزی و انکساری عظمت و بلندی کی دلیل ہے ۔
